تسلیم شدہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - مُسَلَّم، مانا ہوا۔ "اگر یہ ڈگریاں باہر کے ملکوں کے لیے تسلیم شدہ ہوں تو طلبا کو خفت نہ اٹھانی پڑے۔" ( ١٩٦٦ء، روزنامہ، انجام، ٣ستمبر، ٣ )
اشتقاق
عربی زبان کے لفظ 'تسلیم' کے ساتھ فارسی زبان کے 'شدن' مصدر سے حالیہ تمام 'شدہ' بطور لاحقۂ صفت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٦٦ء کو "روزنامہ، انجام" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مُسَلَّم، مانا ہوا۔ "اگر یہ ڈگریاں باہر کے ملکوں کے لیے تسلیم شدہ ہوں تو طلبا کو خفت نہ اٹھانی پڑے۔" ( ١٩٦٦ء، روزنامہ، انجام، ٣ستمبر، ٣ )